تبصرہ چھوڑیں

بلال جاوید

بلال سے دوستی کی ابتداء

قارئین میری ایک گزارش ہے کہ پلیز آپ کسی بھی شخص پر اندھا اعتماد نہ کریں۔آج میرے ساتھ اس طرح کا واقعہ ہوا کل کسی اور کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے۔کیونکہ یہ دنیا بہت ظالم ہے اور انسان سے اس کا سب کچھ چھین لیتی ہے۔

بلال سے دوستی کی ابتداء اپنے گاوں میں ایک تعلیمی ادارے میں ہوئی۔ تب سے میری دوستی پکی ہوئی۔ وہ اتنا معصوم لگتا تھا کہ کوئی بھی شخص دھوکہ کھا سکتا تھا۔ اوریوں میں نے ان پر اندھا اعتماد کرنا شروع کیا۔ کیونکہ وہ شکل و صورت سے بہت معصوم لگتا تھا مگر اندر سے بہت کھوکھلا اور بدصورت انسان تھا جس نے دوست  تو کیا اپنے ایک رشتہ دار کو بھی ایک ٹانکا لگایا تھا جو کہ اتنا بڑا تھا کہ اس نے اپنا دکان ہی بیچ دیا اور خود کوئی دوسرا کاروبار شروع کیا۔مگر  مجھے اس وقت پتہ چلا جب وہ مجھے بہت بڑا نقصان دے گیا۔

جب مجھے پتہ چلا کہ اس رشتہ دار نے بلال کو مار کے اور گالیاں وغیرہ دے کے دکان سے نکال دیا ہے تو میں نے اس کو  اپنے ساتھ اپنی انسٹی ٹیوٹ جو کہ اپنے ہی گائوں میں واقع تھا بٹھا لیا تاکہ کچھ  سیکھ کہ اپنا اور اپنے گھر والوں کی روزی کا سبب بن سکے اور اپنے گھر کو سپورٹ کرے۔ مگر وہ وہاں بھی اپنی عادت سے مجبور اپنا کام کرتا رہا مگر چھوٹے پیمانے پر جس کا اسانی سے پتہ نہ چلتا۔ وقت گزرتا گیا اور ہماری دوستی بہت مشہور ہو گئی۔میں اس کو ہمیشہ یہ سمجھتا رہا کہ میرا سب سے بہترین دوست یہی ہے اور آہستہ آہستہ میں اپنے دوسرے دوستوں سے بھی دور ہوتا چلا گیا۔
میں اس ویب سائٹ پر اس شاطر شخص کے ایک ایک دھوکے کا الگ الگ ذکر کرونگا۔ تاکہ دنیا کو پتہ چلے کہ لوگ کس طرح ظلم کرکے اپنی دنیا بنانے اور بسانے میں لگے ہوئے اور اپنا دین، ایمان، اللہ کی کتاب، اور پیغمبر خدا حضرت محمد صل اللہ علیہ وسلم کے احکامات بھول کر اپنے ہی بھائیوں کو دھوکہ دیکر خوشی خوشی اپنے لئے دوزخ کی راہ ہموار کررہے ہیں۔

(2010-11(چمکنی انسٹی ٹیوٹ آف کمپیوٹر سائنسز

یہ میرا ایک چھوٹا سا ادارہ تھا جس میں میں کچھ کمپیوٹرز رکھے تھے اور  لوگوں کی انفارمیشن ٹیکنالوجی کی تعلیم دیتا رہا۔ جس میں میرے بہت سارے شاکرد بن گئے۔ ان شاگردوں میں ایک یہ دغاباز شخص تھا اور اس کا بھائی جس کا نام تھاجلال۔ یہ دونوں میرے ادارے میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کی کئی کورس مفت میں کرتے رہے اور ساتھ میں اپنے چوریاں بھی کرتے رہے۔

دونوں کی میں نے مندرجہ ذیل کورسز کی تعلیم دی۔

  1. Microsoft Office 2003-2007

  2. complete computer hardware

  3. inpage

  4. internet and email

  5. graphics designing

  6. web designing

  7. video editing

مگر میرے خیال سے اب ان کو کچھ بھی نہیں یاد کیونکہ جس طرح سے یہ لوگوں سے ڈیل کر رہے ہیں۔تو اس سے پتہ چلتا ہے کہ جاہل ہمیشہ جاہل ہی  رہتا ہے۔اس ادارے میں میں نے اس غدار کا بہت خیال رکھا اور ہر طرح سے میں نے اس سے دوستی نبھائی۔میں نے کبھی بھی اس کو بھائی سے کم نہ جانا۔ مگر اس غدار نے کیا کیا۔ ذرا ملاحظہ فرمائیں۔

اس کی کوشش تھی کہ میرے بھائی ادارے کے قریب بھی نہ آئیں۔ اس کے لئے اس کا پلان یہ تھا کہ میرے بھائیوں کے کان بھر دیتا اور ان کو میرے خلاف بھڑکاتا رہا۔اور مجھے ان کے خلاف بھڑکاتا رہا۔ مجھے کیا پتہ تھا کہ یہ کتا آستین کا سانپ ہے۔بس انسان تو زیادہ سے زیادہ کسی انسان کے ظاہر  کو سمجھ سکتا ہے۔ باطن تو اللہ تعالی کو معلوم ہوتا ہے۔ کہ انسان اندر سے کتنا منافق ہوتا ہے اور ظاہر سے کتنا معصوم۔اس دوران جب کہ وہ میرا شاگرد تھا تو میں نے کئی دفعہ اس کے موبائل کا خرچہ، اور کئی دفعہ جب اس کا موبائل خراب ھوگیا تو میں نے ٹھیک کرکے دیا۔ اور ایک دفعہ تو میں نے اس کے لئے موبائل بھی خریدا تھا۔ ھوا یوں کہ جب اس کا ایک موبائل بالکل خراب ھوگیا اور ٹھیک کرنے کے قابل نہ رہا تو میں نے 2500 روپے پر اس کے لئے ایک اور موبائل خریدا جو کہ سادہ  سیٹ تھا۔ چونکہ یہ ظالم تو گانوں بجانوں کا شوقین تھا تو اس نے یوں کیا کہ ایک دفعہ اس نے اس موبائل کو فرش پر زور سے مارا مگر وہ خراب نہ ہوا۔ دوسرے دن اس نے اس موبائل میں اپنی ایک ھینڈ فری کا پین توڑ دیا جو کہ سیٹ میں پھنس گیا۔ اور یوں اس نے وہ بھی اپنے لئے بیچ دیا۔

اس کے کئی ایڈمیشن کے پیسے میں نے برداشت کئے اور اس کو فل سپورٹ کیا۔ کتابیں لے کے دیں۔ اس کے گھر کا بجلی اور ٹیلی فون کے کیبل تبدیل کرائے۔ ہفتے میں کئی دفعہ اس کے باہر کھانے کے لئے لے جاتا اور مچھلی اور کباب کے علاوہ کچھ نہ کھاتے۔ کیونکہ وہ میرا دوست تھا مگر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔غداررررررررررررررررررر۔۔۔۔۔کاش میں اتنا خرچہ کسی کتے پر کرتا تو کم از کم رات کو میرے دروازے پر بیٹھ کر ساری رات جاگ کے گزارتا۔۔۔۔۔مگر افسوس کہ وہ شخص اتنا گرا ھوا شخص تھا کہ اس کے دل میں ان ساری چیزوں میں سے کوئی بھی بات نہ آئی۔۔۔۔۔۔۔۔

ایکسپرٹ کمپیوٹرز جنوری 2011

پھر بجلی نے حالات خراب کر دئیے اور میں اپنا ادارہ ختم کیا اور اپنے علاقے میں ایک شاپ کرائے پر لے لی اور میں نے وہی پرانا کتا اپنی دکان پر شاگرد کے عنوان سے رکھ لیا۔جو کہ جنوری2011 سے مارچ 2012 تک اس چور کا زمانہ عروج تھا۔ اور مجھے اس کی چوریوں کا اس وقت پتہ چلا جب میں جنوری 2012 میں گاوں سے باہر تھا۔تو ان تین مہینوں میں اس کتے نے مجھے تباہ و برباد کر دیا۔

دکان میں اس کی چوریاں آسمان کی بلندیوں کو چھونے لگی۔تقریبا اس نے میرا دکان ختم کردیا تھا۔۔۔میرے دکان سے اس نے تقریبا 70،000 روپے سے زیادہ کی چوری کی ہے۔

روز پیسے غائب۔۔۔روز سامان غائب۔۔۔روز گاھک دکان سے باھر۔۔۔یعنی باھر ہی باھر گاھک سے ڈیلنگ۔۔۔میرے وزٹنگ کارڈ پر اپنا نام اور نمبر لکھ کر دیتا تھا کہ میں اپنا دکان کھولونگا اور وہاں آنا۔ اور لکھتا بلال ایکسپرٹ۔۔۔۔ دھوکہ باز۔۔۔۔ان سب چیزوں کا میرے پاس ایک مکمل ثبوت موجود ہے جس کو میں بہت جلد پیش کروں گا۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: